Showing 37-45 of 578 item(s)
Rustam and Sohrab || رستم و سہراب ( ڈراما ) New

Rustam and Sohrab || رستم و سہراب ( ڈراما )

Rs. 500.00 ID-00549

* Rustam and Sohrab || رستم و سہراب ( ڈراما ) * Agha Hasher Kashmiri || آغا حشر کاشمیری * Paperback Dimensions: 5.5 x 8.25 * Cover Type: Hard * Premium quality books * Best selling urdu book * Good Printing * Good Paper * Original Book * Reasonable Price * Famous Books

Darbare Dhurbar || دربارِ دُربار New

Darbare Dhurbar || دربارِ دُربار

Rs. 600.00 ID-00547

Darbare Dhurbar || دربارِ دُربار ریاست حیدرآباد دکن کی شاہی دربار کی حیرت انگیز داستان

Jadeed Jagrafiya Punjab || جدید جغرافیہ پنجاب New

Jadeed Jagrafiya Punjab || جدید جغرافیہ پنجاب

Rs. 500.00 ID-00546

Jadeed Jagrafiya Punjab || جدید جغرافیہ پنجاب

ishq Karamat || عشق کرامت New

ishq Karamat || عشق کرامت

Rs. 1,000.00 ID-00545

ishq Karamat || عشق کرامت Dr. Yasin Ater || ڈاکٹر یاسین عاطر Paperback Dimensions: 5.5 x 8.25 Cover Type: Hard Premium quality books Best selling urdu book Good Printing Good Paper Original Book Reasonable Price Famous Books

Qaidi sans Lita hai |  Author : Zahida Hanna | قیدی سانس لیتا ہے | مصنف : زاہدہ حنا New

Qaidi sans Lita hai | Author : Zahida Hanna | قیدی سانس لیتا ہے | مصنف : زاہدہ حنا

Rs. 800.00 ID-00544

زاہدہ حنا زاہدہ حنا پاکستان کی مشہور کالم نویس ہیں اور برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار جون ایلیا کی مطلقہ بیگم ہیں ذاتی زندگی زاہدہ حنا تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد ابو الخیر بعد ازاں ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے اور کراچی میں آباد ہو گئے جہاں زاہدہ حنا کی پرورش ہوئی اور کچھ عرصہ وہ گھر میں ہی زیر تعلیم رہیں۔ ساتویں جماعت سے زاہدہ حنا نے ہیپی ہوم اسکول سے رسمی تعلیم شروع کی [3]۔ 9 سال کی عمر میں زایدہ نے پہلی کہانی لکھی۔ زاہدہ نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور ان کا پہلا مضمون ماہنامہ انشا میں 1962ء میں چھپا۔ 1960ء کی دہائی میں انھوں نے صحافت کو بطور پیشہ اپنا لیا۔ 1970ء میں ان کی شادی مشہور شاعر جون ایلیا سے ہو گئی۔ زاہدہ حنا نے روزنامہ جنگ میں 1988ء سے 2005ء تک کام کیا اور پھر وہ روزنامہ ایکسپریس، پاکستان سے منسلک ہو گئیں۔ زاہدہ حنا نے وائس آف امریکا، بی بی سی اردو اور ریڈیو پاکستان میں بھی کام کیا ہے۔ 2006ء سے وہ رس رنگ میں ہفتہ وار کالم پاکستان ڈائری بھی لکھتی ہیں جو ہندوستان کے سب سے بڑے ہندی اخبار دینک بھاسکر کا سنڈے میگزین ہے۔ انجمن ترقیِ اردو پاکستان کی مجلس نظماء نے ڈاکٹر فاطمہ حسن کے بعد یکم اپریل 2019 سے مارچ 2022 تک کے لئے زاہدہ حنا کو معتمد منتخب کیا۔۔پھر 2022 میں جنرل باڈی کے الیکشن کے نتیجے میں زاہدہ حنا دوسری ٹرم کے لئے بھی انجمن کہ معتمد مقرر ہوئیں اور ابھی تک وہ اس عہدے پر برقرار ہیں۔ ازدواجی زندگی زاہدہ حنا کے شوہر جون ایلیا ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ تھے جہاں ان کی ملاقات زاہدہ حنا سے ہوئی بعد میں ان دونوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا اپنے انداز کی ایک ترقی پسند دانشور ہیں اور اب بھی دو روزناموں، روزنامہ جنگ اور ایکسپریس میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون اور زاہدہ کی 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوئے۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں ان کی طلاق ہو گئی۔ تصانیف زاہدہ حنا کے بے مثال افسانے رقص بسمل ہے (افسانے) تتلیاں ڈھونڈنے والی (افسانے) عورت زندگی کا زنداں نہ جنوں رہا نہ پری رہی قیدی سانس لیتا ہے [2] راہ میں اجل ہے درد کا شجر درد آشوب زرد پتوں کا بین (ٹی وی ڈراما) تنہائی کا گھر (The House of Loneliness ) زاہدہ حنا کے افسانوں کا انگریزی ترجمہ [5] زاہدہ حنا کی کتابوں کو انگریزی میں فیض احمد فیض، ثمینہ رحمان اور محمد عمر میمن ترجمہ کر چکے ہیں اعزازات فیض ایوارڈ ادبی پرفارمنس ایوارڈ ساغر صدیقی ادبی ایوارڈ کے پی ایوارڈ سندھ اسپیکر ایوارڈ سارک لٹریری ایوارڈ، 2002ء میں صدر انڈیا کی طرف سے [6] اگست 2006ء میں انھیں صدارتی ایوارڈ تمغا حسن کارکردگی کے لیے نامزد کیا گیا مگر فوجی آمر کے خلاف احتجاج کے طور پر انھوں نے اس ایوارڈ کو مسترد کر دیا۔ آسیہ نازلی نے ان کی سوانح حیات لکھی، زاہدہ حنا ، تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

Mejeed Amjid or Me | Author : Khawaja Muhammad Zakaria |مجید امجد اور میں | مصنف : خواجہ محمد زکریا New

Mejeed Amjid or Me | Author : Khawaja Muhammad Zakaria |مجید امجد اور میں | مصنف : خواجہ محمد زکریا

Rs. 800.00 ID-00543

خواجہ محمد زکریا پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو زبان و ادبیات کے نامور فاضل، شاعر، محقق، نقاد، ماہرِ اقبالیات، اردو کے پروفیسر امریطس، صدر شعبہ اردو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اورینٹل کالج لاہور کے سابق پرنسپل ہیں۔ حالات زندگی ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا 23 مارچ 1940ء کو امرتسر میں چوک مان سنگھ کی ایک حویلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام خواجہ غلام نبی تھا۔ ابتدائی تعلیم سے قبل تقسیم ہند کے فسادات شروع ہوئے تو ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور آ گیا اور اسی شہر کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان 1954ء میں پاس کیا۔ بی اے آنرز گورنمنٹ کالج لاہور سے کرنے کے بعد ایم اے (اردو) کی ڈگری 1962ء میں جامعہ پنجاب سے اول درجہ میں حاصل کی۔ 1962ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور اردو لیکچرار تعیناتی ہوئی، بعد ازاں جولائی 1963ء میں بطور لیکچرار اردو برائے غیر ملکی طلبہ شعبہ اردو (یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور) میں تقرر ہوا۔ 1967ء تک غیر ملکی طلبہ کو اردو سرٹیفکیٹ اور ڈپلوما کی کلاسیں پڑھاتے رہے۔ بعد ازاں اسی کالج میں شعبہ اردو کے لیکچرار مقرر ہو گئے۔ 1970ء میں اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے۔ 1973ء میں ہندی میں ڈپلوما کیا۔ 1974ء میں اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران ہندی سرٹیفکیٹ اور ڈپلوما کی کلاسوں کو بھی جز وقتی طور پر پڑھاتے رہے۔ 1977ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوئے۔ 1979ء میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اردو زبان کے پروفیسر کے طور پر تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہاں ایک سالہ تقرری کے دوران وہ صدر شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف لینگویجز کے عہدے پر فائز رہے۔ 1980ء میں دوبارہ اورینٹل کالج لاہور آ گئے، یہاں 1984ء میں صدر شعبہ اردو مقرر ہوئے۔ 1993ء سے 1995ء تک ڈین کلیہ علوم اسلامیہ و السنہ شرقیہ کے فرائض انجام دیے۔[1] پروفیسر ڈاکٹر ذو الفقار علی ملک کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1994ء میں کالج کے سب سے سینئر استاد کی حیثیت سے اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ یکم اپریل 1995ء کو اردو زبان کی تدریس کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز (JOCV) کوما گانے جاپان چلے گئے۔ یکم اپریل 1999ء کو واپس پاکستان آئے اور دوبارہ اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ تقریباً 37 سال تدریسی خادمات انجام دینے کے بعد 22 مارچ 2000ء کو ریٹائر ہو گئے۔ دورانِ ملازمت اورینٹل کالج ، جامعہ پنجاب اور دیگر علمی و ادبی کمیٹیوں کے ارکان بھی رہے۔ یونیورسٹی اورینٹل کالج میں تدریسی اور انتظامی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ تحقیق و تصنیف میں بھی مشغول رہے۔ انھوں نے ایم اے کی سطح پر ایک سو سے زائد طلبہ کی تحقیقی مقالات لکھنے میں رہنمائی کی۔ اس کے علاوہ 20 سے زائد ریسرچ اسکالروں نے ان کی زیرِ نگرانی پی ایچ ڈی کے مقالات تحریر کر چکے ہیں۔[2][3] جن میں ڈاکٹر طاہر تونسوی، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر اے بی اشرف قابلیِ ذکر ہیں۔ اعزازت ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کو ادبی و تعلیمی خدمات کے صلہ میں حکومت پاکستان نے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازا۔

Kheta Hun Sach | Author : Khawaja Muhammad Zakaria | کہتا ہوں سچ | مصنف : خواجہ محمد زکریا New

Kheta Hun Sach | Author : Khawaja Muhammad Zakaria | کہتا ہوں سچ | مصنف : خواجہ محمد زکریا

Rs. 800.00 ID-00542

خواجہ محمد زکریا پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو زبان و ادبیات کے نامور فاضل، شاعر، محقق، نقاد، ماہرِ اقبالیات، اردو کے پروفیسر امریطس، صدر شعبہ اردو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اورینٹل کالج لاہور کے سابق پرنسپل ہیں۔ حالات زندگی ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا 23 مارچ 1940ء کو امرتسر میں چوک مان سنگھ کی ایک حویلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام خواجہ غلام نبی تھا۔ ابتدائی تعلیم سے قبل تقسیم ہند کے فسادات شروع ہوئے تو ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور آ گیا اور اسی شہر کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان 1954ء میں پاس کیا۔ بی اے آنرز گورنمنٹ کالج لاہور سے کرنے کے بعد ایم اے (اردو) کی ڈگری 1962ء میں جامعہ پنجاب سے اول درجہ میں حاصل کی۔ 1962ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور اردو لیکچرار تعیناتی ہوئی، بعد ازاں جولائی 1963ء میں بطور لیکچرار اردو برائے غیر ملکی طلبہ شعبہ اردو (یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور) میں تقرر ہوا۔ 1967ء تک غیر ملکی طلبہ کو اردو سرٹیفکیٹ اور ڈپلوما کی کلاسیں پڑھاتے رہے۔ بعد ازاں اسی کالج میں شعبہ اردو کے لیکچرار مقرر ہو گئے۔ 1970ء میں اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے۔ 1973ء میں ہندی میں ڈپلوما کیا۔ 1974ء میں اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران ہندی سرٹیفکیٹ اور ڈپلوما کی کلاسوں کو بھی جز وقتی طور پر پڑھاتے رہے۔ 1977ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوئے۔ 1979ء میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اردو زبان کے پروفیسر کے طور پر تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہاں ایک سالہ تقرری کے دوران وہ صدر شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف لینگویجز کے عہدے پر فائز رہے۔ 1980ء میں دوبارہ اورینٹل کالج لاہور آ گئے، یہاں 1984ء میں صدر شعبہ اردو مقرر ہوئے۔ 1993ء سے 1995ء تک ڈین کلیہ علوم اسلامیہ و السنہ شرقیہ کے فرائض انجام دیے۔[1] پروفیسر ڈاکٹر ذو الفقار علی ملک کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1994ء میں کالج کے سب سے سینئر استاد کی حیثیت سے اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ یکم اپریل 1995ء کو اردو زبان کی تدریس کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز (JOCV) کوما گانے جاپان چلے گئے۔ یکم اپریل 1999ء کو واپس پاکستان آئے اور دوبارہ اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ تقریباً 37 سال تدریسی خادمات انجام دینے کے بعد 22 مارچ 2000ء کو ریٹائر ہو گئے۔ دورانِ ملازمت اورینٹل کالج ، جامعہ پنجاب اور دیگر علمی و ادبی کمیٹیوں کے ارکان بھی رہے۔ یونیورسٹی اورینٹل کالج میں تدریسی اور انتظامی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ تحقیق و تصنیف میں بھی مشغول رہے۔ انھوں نے ایم اے کی سطح پر ایک سو سے زائد طلبہ کی تحقیقی مقالات لکھنے میں رہنمائی کی۔ اس کے علاوہ 20 سے زائد ریسرچ اسکالروں نے ان کی زیرِ نگرانی پی ایچ ڈی کے مقالات تحریر کر چکے ہیں۔[2][3] جن میں ڈاکٹر طاہر تونسوی، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر اے بی اشرف قابلیِ ذکر ہیں۔ اعزازت ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کو ادبی و تعلیمی خدمات کے صلہ میں حکومت پاکستان نے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازا۔

Murdamy Dida New

Murdamy Dida

Rs. 600.00 ID-00541

Murdamy Dida | مُردمِ دیدہ

Showing 37-45 of 578 item(s)