جگن ناتھ آزاد کو اردو اور علامہ محمد اقبال سے ایک خاص نسبت حاصل تھی ۔ اسی لیے ہم ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر تھا۔ یہاں کی تمام بڑی بڑی ادبی تقریبات میں ان کو اعزاز کے ساتھ مدعو کیا جاتا تھا۔ اقبال کی شاعری اور فلسفہ و فکر کو مغرب میں متعارف کروانے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ زیر نظر سفر نامہ " کولمبس کے دیس میں دراصل امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے اُس سفر کی روداد ہے جو سفر انھوں نے اقبال اور اُردو کے حوالے سے منعقدہ مختلف تقاریب میں شرکت کے لیے کیا۔ یہ سفرنامہ ستر کی دہائی کے آخری برس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے سے بھی پہلے ان ممالک میں ایسی بستیاں موجود تھیں جہاں ہندوستانی اور پاکستانی کلچر کے اہم نشانات کو محفوظ کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود نئی نسل کے اپنے کلچر سے کٹ جانے کا خدشہ بہر حال موجود تھا۔ اس سفرنامہ کے مطالعہ سے یہ جان کر حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات پیدا ہوتے ہیں کہ نصف صدی قبل بھی امریکی یونیورسٹیوں میں اُردو، ہندی، پنجابی، پالی، بنگالی، سندھی، آسامی، بلوچی، گجراتی اور تلیگو جیسی زبانیں پڑھائی جاتی تھیں۔ ڈاکٹر محمد وصی اللہ خاں جیسے بہت سے ماہرین تعلیم امریکہ میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اُس وقت کے امریکہ کا سب سے بڑا سیرز ٹاور پاکستان نژاد انجینئر فضل الرحمان کی تخلیقی امریکہ کی ترقی میں اس کے تعلیمی نظام اور فعال کتب خانوں کے ساتھ ساتھ باصلاحیت تارکین وطن کا بھی اہم کردار ہے۔ وہاں کی ایک اہم درسگاہ ایسٹ ویسٹ یونیورسٹی کے چانسلر صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سفر نامہ نگار واقعہ معراج کے تناظر میں شائع ہونے والی ایک کتاب کا ذکر کرتے ہوئے اس امر پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں کہ مغرب میں مسلمانوں کی دلآزاری کا جو سلسلہ صدیوں پہلے شروع ہوا تھا وہ اب بھی اسی طرح جاری ہے اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں مزید شدت آگئی ہے۔ سفرنامہ کے مطالعہ سے ہمیں سمندر پار بسنے والے شاعروں اور ادیبوں کی اُردو ادب کے لیے بیش قدر خدمات کے بارے میں بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ سفرنامہ نگار نے نصف صدی قبل کے امریکہ میں لائبریریوں میں جن سہولیات کی موجودگی کا ذکر کیا ہے ہم نصف صدی بعد بھی ان سے محروم ہیں یہ سفر نامہ دلکش اور رواں دواں نثر کا نمونہ ہے اور اُردو قارئین کے لیے لیے ایک تحفہ سے کم نہیں۔ ارشد نعیم مدیر سه ماهی صحیفہ لاہور
مطائبات - اُردو مزاح کا دور جدید فکاہیہ کالم نگاری کی جو روایت اودھ پنچ کے صفحات پر منشی سجاد حسین سے شروع ہو کر رتن ناتھ سرشار ، تر بھون ناتھ ہجر ، جوالا پرشاد برق، مرزا مچھو بیگ ستم ظریف ، نواب سید محمد آزاد او راکبرالہ آبادی جیسے اعلیٰ مزاح نگاروں تک وسعت اختیار کرتی ہے۔ اس روایت نے ادب اور صحافت کے مابین ایک ایسا رشتہ استوار کیا جو وقت کے ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ جب یہ روایت سفر کرتے کرتے جدید اردو صحافت کے عہد میں داخل ہوئی تو یہاں اسے ثروت مند کرنے والوں میں ہمیں عبد المجید سالک، چراغ حسن حسرت ، خواجہ حسن نظامی، شوکت تھانوی اور قاضی عبدالغفار جیسے صاحب اسلوب نثر نگار جلوہ آرا نظر آتے ہیں۔ ان صاحبان قلم نے ایک دن کی زندگی کی حامل تحریروں کو مستقل ادبی فن پارہ بنانے کا سلیقہ وضع کیا۔ چراغ حسن حسرت کی تخلیقی شخصیت اس کارواں میں اپنی الگ شناخت اور اسلوب کے ساتھ ممتاز نظر آتی ہے ۔ انھوں نے طنز کو آرٹ کا درجہ دیا اور اخباری کالم بھی ایک مستقل ادبی صنف کے طور پر شناخت قائم کرنے لگا۔ اسی بنا پر انھیں بجا طور پر فکاہیہ کالم نگاری کا امام کہا جاتا ہے۔ مطالبات چراغ حسن حسرت ( سند باد جہازی ) کے ان کالموں کا مجموعہ ہے۔ جو انھوں نے اپنے جاری کردہ ہفت روزہ ” شیرازہ میں تحریر کیے۔ یہ ہفت روزہ ابن اسماعیل کے نزدیک اُردو مزاحیہ ادب کے جدید دور کا آغاز ہے ان کالموں میں آپ ایک ایسے مزاح نگار سے متعارف ہوتے ہیں جو مغربی طنز و مزاحکے حربوں اور آرٹ کو ایک مشرقی ادیب کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے جملہ محاسن کو اپنے اسلوب کا حصہ بناتا ہے۔ انھوں نے ہماری سیاسی ، سماجی اور معاشی زندگی پر ایک بالغ نظر طناز کی نگاہ ڈالی ہے، ان کے طنز میں دلیل اور منطق کا حسن ہے۔ پھکڑ پن کے ذریعے کسی کی بھی نہیں اڑائی گئی ، یہ کالم ایک خاص عہد کی سماجی زندگی سے متعلق ہونے کے باوجود کامیابی سے اگلے زمانوں تک سفر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ارشد نعیم مدیر سہ ماہی صحیفہ لاہور
Kile Ka Chhalka Or Dosare Mazamin - کیلے کا چھلکا اور دوسرے مضامین
Agar Main Sher Na Khata - اگر میں شعر نہ کہتا
Kuliyat Safdar Saleem Siyal - صفدر سلیم سیال
Showing 19-27 of 580 item(s)