البیرونی نے مختلف علوم و فنون پر ایک سو چودہ سے زیادہ کتا ہیں لکھیں اور ان میں سے اکثر ہیئت و ریاضی اور طبیعیات جیسے کٹھن مضامین پر تھیں اس سے اس بے نظیر فاضل اور محقق پر سے اور کے کمال کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ وہ علم کا بہت شائق اور شیفتہ تھا۔ اس کا دائرہ معلومات نہایت وسیع تھا۔ وہ ہر علمی مسئلے کی خود تحقیقات کرتا اور عقل و مشاہدہ سے کام لیتا۔ وہ مقلد نہیں بلکہ مجتہد تھا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ سال میں صرف دو روز یعنی نوروز اور مہر جان ( ایرانی تیوہار ) کے دن تو ایسے تھے کہ وہ علمی مطالعہ چھوڑ کر اپنے کھانے پینے کا انتظام کرتا ور نہ ہمیشہ علوم کے حاصل کرنے میں محو اور کتابوں کی تصنیف پر جھکا رہتا تھا۔ اپنے ہاتھ سے قلم کو، دیکھنے سے آنکھ کو اور فکر سے دل کو کبھی خالی نہیں رکھتا تھا۔ مولوی عبد الحق البیرونی کی تصنیف ”کتاب الہند کے مواد کے تجزیے سے ہندوستانی تہذیب کے مختلف پہلوؤں کی ایک بھر پور تصویر سامنے آتی ہے جن میں جغرافیہ، مذہب، زبان، ادب، رسم و رواج اور علوم شامل ہیں۔ البیرونی نے باریک بینی سے مشاہدہ، منظم تجزیہ اور تقابلی مطالعے کے ذریعے ہندوستانی ثقافت اور معاشرے کا جامع بیان پیش کیا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے البیرونی برصغیر پاک و ہند کی ظاہری خصوصیات، آب و ہوا اور قدرتی وسائل کی تفصیلی وضاحت کرتا ہے۔ وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں کا نقشہ بیان کرتا ہے اور اس کے متنوع مناظر کی جھلک پیش کرتا ہے۔ جن میں شمال میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے کر جنوب میں دکن کے سطح مرتفع تک شامل ہیں۔ پروفیسر سخاؤ (جرمنی) یہ تصنیف ہمیں احساس دلاتی ہے کہ کسی قوم، مذہب یا تہذیب کو حقیقی طور پر سمجھنے کے لیے تعصب، پیشگی مفروضات اور ثقافتی برتری کے احساس سے بالاتر ہو کر مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ البیرونی کا طریق کار یہ سکھاتا ہے کہ علمی مکالمہ الزام تراشی سے نہیں بلکہ سنے، سمجھنے اور منصفانہ تجزیے سے ممکن ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کتاب بین المذاہب مکالمے، تقابلی فلسفے اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک درخشاں مثال سمجھی جاتی ہے جو مختلف فکری روایتوں کے درمیان پل تعمیر کرتی ہے۔ عقیل اختر
Maulana Muhammad Ali Johar - مولانا محمد علی جوہر یورپ کے سفر مولانا محمد علی جوہر کا یورپ کے سفر ان کے یورپ کے ان اسفار کا احوال ہے جو انھوں نے نوجوانی سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک مختلف اوقات میں کیے۔ ان اسفار کا احوال وہ خطوط کی صورت میں اپنے ہفت روزہ اخبارات ” ہمدرد اور کامریڈ کے لیے تحریر کرتے رہے۔ ان خطوط کا اسلوب عمومی اور عوامی ہے کیونکہ ان کا مقصد اخبار کے قارئین کو گول میز کانفرنس میں ہونے والی مباحث اور جد و جہد آزادی کے لیے کی گئی کوششوں سے باخبر رکھنا تھا۔ ان خطوط نما رو دادوں میں رپورتاژ کی سی ادبی چاشنی اور رنگینی در آئی ہے، پروفیسر محمد سرور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں انھیں رسائل کی فائلوں سے تلاش کر کے خوبصورتی سے مرتب کیا ہے۔ اس سفر نامے میں جہاں ہندوستان کی جد و جہد آزادی کے مختلف مراحل کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے وہاں مولانا محمد علی جوہر کی اپنے وطن کے لیے محبت کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں بھر پور حصہ لیا اور تحریک خلافت سے لے کر تحریک پاکستان تک مسلسل جد و جہد کی۔ اُن کی اولین کوشش یہ تھی کہ بر صغیر پاک و ہند کے تمام باسی بلا امتیاز مذہب و ملت اور رنگ ونسل انگریزوں سے آزادی کا مطالبہ کریں، اس کے لیے انھوں نے اپنے اخبارات ” کا مرید اور ہمدرد کے ذریعے جدو جہد کی اور جب انھیں معلوم ہو گیا کہ ہندو مسلمانوں کے حوالے سے تعصب کا شکار ہیں تو انھوں نے تحریک پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ یہ سفر نامہ اپنے عمدہ اسلوب ، جاندار نثر اور یورپ کی زندگی کے مختلف مظاہر اور بیش قدر معلومات کی وجہ سے قارئین کے لیے ایک عمدہ تحفہ ثابت ہوگا۔ اس میں تاریخ، تہذیب، ثقافت، سیاست اور ادب یکجا ہو گئے ہیں۔
جگن ناتھ آزاد کو اردو اور علامہ محمد اقبال سے ایک خاص نسبت حاصل تھی ۔ اسی لیے ہم ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر تھا۔ یہاں کی تمام بڑی بڑی ادبی تقریبات میں ان کو اعزاز کے ساتھ مدعو کیا جاتا تھا۔ اقبال کی شاعری اور فلسفہ و فکر کو مغرب میں متعارف کروانے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ زیر نظر سفر نامہ " کولمبس کے دیس میں دراصل امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے اُس سفر کی روداد ہے جو سفر انھوں نے اقبال اور اُردو کے حوالے سے منعقدہ مختلف تقاریب میں شرکت کے لیے کیا۔ یہ سفرنامہ ستر کی دہائی کے آخری برس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے سے بھی پہلے ان ممالک میں ایسی بستیاں موجود تھیں جہاں ہندوستانی اور پاکستانی کلچر کے اہم نشانات کو محفوظ کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود نئی نسل کے اپنے کلچر سے کٹ جانے کا خدشہ بہر حال موجود تھا۔ اس سفرنامہ کے مطالعہ سے یہ جان کر حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات پیدا ہوتے ہیں کہ نصف صدی قبل بھی امریکی یونیورسٹیوں میں اُردو، ہندی، پنجابی، پالی، بنگالی، سندھی، آسامی، بلوچی، گجراتی اور تلیگو جیسی زبانیں پڑھائی جاتی تھیں۔ ڈاکٹر محمد وصی اللہ خاں جیسے بہت سے ماہرین تعلیم امریکہ میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اُس وقت کے امریکہ کا سب سے بڑا سیرز ٹاور پاکستان نژاد انجینئر فضل الرحمان کی تخلیقی امریکہ کی ترقی میں اس کے تعلیمی نظام اور فعال کتب خانوں کے ساتھ ساتھ باصلاحیت تارکین وطن کا بھی اہم کردار ہے۔ وہاں کی ایک اہم درسگاہ ایسٹ ویسٹ یونیورسٹی کے چانسلر صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سفر نامہ نگار واقعہ معراج کے تناظر میں شائع ہونے والی ایک کتاب کا ذکر کرتے ہوئے اس امر پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں کہ مغرب میں مسلمانوں کی دلآزاری کا جو سلسلہ صدیوں پہلے شروع ہوا تھا وہ اب بھی اسی طرح جاری ہے اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں مزید شدت آگئی ہے۔ سفرنامہ کے مطالعہ سے ہمیں سمندر پار بسنے والے شاعروں اور ادیبوں کی اُردو ادب کے لیے بیش قدر خدمات کے بارے میں بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ سفرنامہ نگار نے نصف صدی قبل کے امریکہ میں لائبریریوں میں جن سہولیات کی موجودگی کا ذکر کیا ہے ہم نصف صدی بعد بھی ان سے محروم ہیں یہ سفر نامہ دلکش اور رواں دواں نثر کا نمونہ ہے اور اُردو قارئین کے لیے لیے ایک تحفہ سے کم نہیں۔ ارشد نعیم مدیر سه ماهی صحیفہ لاہور
Showing 1-9 of 20 item(s)