Showing 1-9 of 587 item(s)
Taarekh Addab Urdu New

Taarekh Addab Urdu

Rs. 1,600.00 ID-00604

اس کتاب کی تصنیف کی اصلی غرض یہ ہے کہ ادب اُردو کی تدریجی ترقی کا خاکہ زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ حال تک کا مع مشہور شعرا اور شاروں کے مختصر حالات زندگی اور اُن کے کلام اور تصانیف پر ایک مختصر تنقید کے کھینچا جائے۔ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طبقہ کے تعلقات دوسرے طبقہ کے ساتھ اور ایک فرد کے تعلقات دوسرے فرد کے ساتھ اس میں وضاحت سے بیان کیے جائیں اور نیز مختلف تحریکوں اور طرزوں کی ابتدا اور ترقی اور زوال کے اسباب بتائے جائیں اور اُس دور کے تاریخی حالات و واقعات بھی نظر انداز نہ کیے جائیں جس میں کہ وہ شعرا اور شمار گزرے۔ یہ کتاب محض کسی زمانے کے واقعات کا ایک ذخیرہ نہیں بلکہ ان خیالات اور خصوصیات کے دکھانے کی اس میں پوری کوشش کی گئی ہے جن کا اثر اُس زمانہ پر تھا۔ اس کی تصنیف میں میرے پیش نظر یہ رہا ہے کہ یہ زمانہ حال کے تنقیدی اصولوں کے مطابق بطور ٹیکسٹ بک تیار کی جائے تا کہ انگریزی دان جماعت بھی ادب اُردو سے کما حقہ واقف ہو جائے۔ رام بابو سکسینہ قابل مصنف کو اس بارے میں ضرور داد دینا پڑتی ہے کہ کیسے مسلسل اور مربوط طریقہ سے انھوں نے زبان اور ادب اُردو کی ترقی اور نشو و نما کا حال قدیم زمانہ سے لے کر زمانہ حال تک کا لکھا ہے۔ ایک بات جو مجھے ان میں نہایت اُمید افزا معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد اور اپنے اظہار خیال میں بے باک ہیں۔ مختصر یہ کہ کتاب نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے جس کے واسطے تمام بہی خواہانِ اُردو کو لائق مصنف یعنی رام بابو سکسینہ صاحب کا احسان مند ہونا چاہیے۔ یہ کتاب یقیناً اُن تمام اصحاب کو پسند آئے گی ، اور میری رائے رام بابو سکسینہ صاحب کا احسان مند ہونا چاہیے۔ یہ کتاب یقینا میں ضرور آنا چاہیے جو اس بات کی تحقیق چاہتے ہیں کہ زبانِ اُردو کس طرح عالم وجود میں آئی مختلف اُستادوں کے ہاتھ سے اُس میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوئیں اور ترقی کے مختلف ادوار نے اس پر کیا کیا اثرات کیے۔ ڈاکٹر سرتیج بہادر سپرو رام بابو سکسینہ نے جس کاوش، جس کوشش ، زورِ مطالعہ اور وسعتِ نظر سے اس میں کام لیا ہے اور اسلوب بیان و تنقید وغیرہ میں جو صفائی مد نظر رکھی ہے ، شعراً اور نثاروں کے کلام کا توازن کر کے اُن پر جیسی صحیحبیبا کا نہ اور بے لاگ رائیں قائم کی ہیں، وہ اس کتاب کو ہر حیثیت سے منفر دصورت میں پیش کرتی ہیں۔ تلاش و جستجو کا یہ عالم ہے کہ اُن واقعات کو اظہر من الشمس کر دیا ہے جس سے ابھی تک لوگ نا آشنا تھے۔ ایک ایک لفظ سے ایک ضخیم دفتر کا فائدہ اُٹھایا ہے اس کے ساتھ کہیں تو ازن و انصاف کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ فاضل مصنف نے اصل کتاب کی ترتیب میں اُسی روش کا خیال رکھا ہے جو ادب انگریزی کے مشہور مؤرخین پروفیسر سینٹس بری (Saintsbury) اور گاس وغیرہ نے اپنی تصانیف میں اختیار کی ہے جس سے علاوہ جدت ترتیب اور مخصوص اسلوب بیان کے یہ فائدہ بھی ضرور ہوا کہ کتاب اُن اصحاب کے واسطے بہت مفید ہو گئی جنھوں نے بی اے یا ایم اے کی ڈگری یا آئی سی ایس کے واسطے ادب اُردو لیا ہو۔ مرز امحمد عسکری

Khuf Tamasha ( Novel ) New

Khuf Tamasha ( Novel )

Rs. 3,000.00 ID-00603

* Khuf Tamasha ( Novel ) - (خوف تماشا (ناول * Author : Mirza Athar Baig - مرزا اطہر بیگ * Page,s : 1220 * It's not fake Book * Cover Typ : Heart * Paperback Dimensions: 5.5 x 8.25 * Original Book * Premium quality books * Best selling urdu book * Good Printing * Good Paper * Original Book * Reasonable Price * Famous Book

Alimi Sakhan Aryan New

Alimi Sakhan Aryan

Rs. 2,000.00 ID-00600

پروفیسر غلام محی الدین سخن فہم ہیں ۔ دنیا جہان کا ادب پڑھنا اُن کا جنون ہے۔ کرہ ارض کا کوئی گوشہ ہو جہاں سخن آرائی ہوتی ہے۔ پروفیسر صاحب کی دسترس سے باہر نہیں۔ ہر ادب پارہ پڑھتے ہیں۔ اس کو پرکھتے ہیں اور پھر اس کا اُردو ترجمہ کر کے اُردو دان قارئین کو بھی اپنے ذوق ادب میں شامل کرتے ہیں۔ لیکن معاملہ صرف ترجمہ تک محدود نہیں ۔ آپ اپنے منتخب کردہ ادب پارے کو تنقید کے مرحلہ سے بھی گزارتے ہیں۔ ان کی تنقید محض انداز بیان اور واقعات کے تسلسل کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ کرداروں کے نفسیاتی تقاضوں کے مطابق ان کے مکالمات اور حرکات و سکنات پر بھی گرفت کرتی ہے۔ زیر نظر مجموعے میں گزشتہ دو صدیوں سے تعلق رکھنے والی کچھ کہانیاں ہیں۔ مثلاً ایک سفر کھیل کا خاتمہ سکنڈے نیویا کی ایک داستان ... دلہن گڑیا ... پیدائشی نشان وغیرہ۔ کچھ کہانیاں اپنے موضوع کے اعتبار سے اور کچھ اپنی کرافٹ کی بدولت زبردست انتخاب قرار دی جائیں گی۔ طاہر منصور فاروقی

KItab Ul Hind New

KItab Ul Hind

Rs. 1,600.00 ID-00599

البیرونی نے مختلف علوم و فنون پر ایک سو چودہ سے زیادہ کتا ہیں لکھیں اور ان میں سے اکثر ہیئت و ریاضی اور طبیعیات جیسے کٹھن مضامین پر تھیں اس سے اس بے نظیر فاضل اور محقق پر سے اور کے کمال کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ وہ علم کا بہت شائق اور شیفتہ تھا۔ اس کا دائرہ معلومات نہایت وسیع تھا۔ وہ ہر علمی مسئلے کی خود تحقیقات کرتا اور عقل و مشاہدہ سے کام لیتا۔ وہ مقلد نہیں بلکہ مجتہد تھا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ سال میں صرف دو روز یعنی نوروز اور مہر جان ( ایرانی تیوہار ) کے دن تو ایسے تھے کہ وہ علمی مطالعہ چھوڑ کر اپنے کھانے پینے کا انتظام کرتا ور نہ ہمیشہ علوم کے حاصل کرنے میں محو اور کتابوں کی تصنیف پر جھکا رہتا تھا۔ اپنے ہاتھ سے قلم کو، دیکھنے سے آنکھ کو اور فکر سے دل کو کبھی خالی نہیں رکھتا تھا۔ مولوی عبد الحق البیرونی کی تصنیف ”کتاب الہند کے مواد کے تجزیے سے ہندوستانی تہذیب کے مختلف پہلوؤں کی ایک بھر پور تصویر سامنے آتی ہے جن میں جغرافیہ، مذہب، زبان، ادب، رسم و رواج اور علوم شامل ہیں۔ البیرونی نے باریک بینی سے مشاہدہ، منظم تجزیہ اور تقابلی مطالعے کے ذریعے ہندوستانی ثقافت اور معاشرے کا جامع بیان پیش کیا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے البیرونی برصغیر پاک و ہند کی ظاہری خصوصیات، آب و ہوا اور قدرتی وسائل کی تفصیلی وضاحت کرتا ہے۔ وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں کا نقشہ بیان کرتا ہے اور اس کے متنوع مناظر کی جھلک پیش کرتا ہے۔ جن میں شمال میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے کر جنوب میں دکن کے سطح مرتفع تک شامل ہیں۔ پروفیسر سخاؤ (جرمنی) یہ تصنیف ہمیں احساس دلاتی ہے کہ کسی قوم، مذہب یا تہذیب کو حقیقی طور پر سمجھنے کے لیے تعصب، پیشگی مفروضات اور ثقافتی برتری کے احساس سے بالاتر ہو کر مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ البیرونی کا طریق کار یہ سکھاتا ہے کہ علمی مکالمہ الزام تراشی سے نہیں بلکہ سنے، سمجھنے اور منصفانہ تجزیے سے ممکن ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کتاب بین المذاہب مکالمے، تقابلی فلسفے اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک درخشاں مثال سمجھی جاتی ہے جو مختلف فکری روایتوں کے درمیان پل تعمیر کرتی ہے۔ عقیل اختر

Barfbad ( Shakar Alimi Afsane ) New

Barfbad ( Shakar Alimi Afsane )

Rs. 2,000.00 ID-00597

برفباد ( شاہکار عالمی افسانے ) Barfbad ( Shakar Alimi Afsane )

Safar-e-Narasai ( Novel ) New

Safar-e-Narasai ( Novel )

Rs. 2,000.00 ID-00596

سفرِ نارَسائی ( ناول ) Safar-e-Narasai ( Novel )

Feroz Khan Noon New

Feroz Khan Noon

Rs. 1,000.00 ID-00595

فیروز خان نون ... سوانح حیات ... ایک جائزہ فیروز خان نون 1893ء میں سرگودھا کی تحصیل بھلوال میں پیدا ہوئے ۔ 1905ء میں ایچی سن کالج لاہور میں داخلہ لیا اور اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ سے حاصل کی۔ 1921ء میں لاہور ہائی کورٹ میں پریکٹس شروع کی 41-1936ء تک برطانیہ میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور ہندوستان کے وزیر محنت رہے۔ 1945ء میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے نمائندے کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔ 1947ء میں پاکستان دستور ساز اسمبلی کے نمائندے اور 1950ء میں مشرقی پاکستان کے گورنر رہے ۔ 1953ء میں وزیر اعلیٰ پنجاب بنے۔ 1956ء میں وزیر خارجہ اور 58-1957ء میں وزیر اعظم پاکستان رہے۔ پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی خود نوشت سوانح حیات ہے اس میں قیام پاکستان کی جدو جہد کے دوران سیاسی ، سماجی اور ثقافتی حالات اور اپنی زندگی کے اہم واقعات اُنہوں نے بیان کیے ہیں۔ ملک فیروز خان نون نے سرکاری مناصب پر تعیناتی کے اعتبار سے بھر پور زندگی گزاری ہے۔ پاکستان کے لیے اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے خارجہ پالیسی کی بنیادیں استوار کرتے ہوئے چین، افغانستان اور ایران سے بالخصوص بہتر خارجہ تعلقات کی پالیسی وضع کی۔ ایک اور قابلِ ذکر اقدام اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت سے کشمیر کے لیے استصواب رائے منظور کروانا تھا۔ ان کا اہم ترین کارنامہ وزارت عظمی کے دوران گوادر کو پاکستان کی تحویل میں لینا تھا گوادر کو 1781ء میں قلات بلوچستان کے حکمران نے مسقط کے ایک مفرور شہزادے کو جاگیر کے طور پر دے دیا تھا جو اُس کی پناہ میں آیا تھا۔ مسقط میں سیاسی حالات تبدیل ہونے پر وہ شہزادہ مسقط کا سلطان بن گیا ۔ لیکن اُس نے گوادر کا قبضہ نہ چھوڑا۔ پاکستان بننے پر یہ مسئلہ دولت مشترکہ کے فورم پر اٹھایا گیا لیکن فیصلہ نہ ہو سکا ۔ فیروز خان نون نے اپنی وزارت عظمی کے دوران اس مسئلہ کو برطانیہ کے ذریعے پھر اُٹھایا اور برطانوی حکام میں اپنا اثر و رسوخ اور مدل موقف استعمال کرتے ہوئے زر نقد کے عوض سلطان مسقط سے چوبیس سو مربع میل کا علاقہ خاموشی سے واپس لے لیا جس پر ایران اور ہندوستان کی نظریں تھیں۔ طاہر منصور فاروقی

Tanqeedi Nazaryat ( Usul Or Fan Ke Matalq Mazamin Ka Mujamua ) New

Tanqeedi Nazaryat ( Usul Or Fan Ke Matalq Mazamin Ka Mujamua )

Rs. 800.00 ID-00594

تنقیدی نظریات اُردو میں نظری تنقید کی بنیادی کتاب سید احتشام حسین ترقی پسند تنقید کے بنیاد گزاروں میں سے ہیں۔ انھوں نے تنقید کے مختلف شعبوں میں قابل قدر تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔ طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اُردو میں نظری تنقید کے موضوع پر بہت کم کتب دستیاب ہیں۔ تنقیدی نظریات کی ترتیب کا کام انھوں نے بیسویں صدی کے وسط میں کیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ پون صدی گزرنے کے بعد بھی یہ کتاب اپنے موضوع کی مناسبت سے بنیادی اور مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ اسے فاضل مرتب نے تین حصوں (اول) مسائل ( دوم ) زاویے (سوم) تجزیے میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں اُصول تنقید، تنقید کی مبادیات ، نقاد کے منصب ، اور تنقید کے فن کی حدود کے بارے میں نیاز فتح پوری ، ڈاکٹر عبادت بریلوی، مجنوں گورکھ پوری اور کلیم الدین احمد کے مضامین شامل ہیں۔ نیز تنقید ، نظریہ اور عمل کے زیر عنوان سید احتشام حسین نے فن تنقید کے بارے میں خوبصورت طرز استدلال سے اپنے موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ زاویے“ کے زیر عنوان دوسرے حصے میں تخلیق و تنقید کے باہمی رشتے، تحقیق و تنقید کے درمیان تعلق کے ساتھ ساتھ سائنٹیفک تنقید، نفسیاتی تنقید اور مارکسی تنقید کو مجنوں گورکھ پوری، ڈاکٹر سید عبد اللہ ، اسلوب احمد انصاری، سید شبیہ الحسن اور ڈاکٹر عبدالعلیم نے کامیابی سے اپنا موضوع بنایا ہے۔ تجزیئے" کے عنوان سے موجود حصہ سوم میں آل احمد سرور، ڈاکٹر اختر اور بینوی ، ریاض احمد اور سید ممتاز حسین نے ادب اور تنقید کی بنیادی اقدار پر خوبصورت مقالات پیش کیے ہیں۔ اُردو ادب کے اساتذہ اور طالب علموں کے لیے تنقید کے بنیادی تصورات اور نظریات کو سمجھنے کے لیے یہ مضامین کامل رہنمائی کے اہل ہیں۔ ان مقالات کی زبان رواں ، سلیس اور آسان فہم ہے اور فاضل نقادوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے انھیں تحریر کیا ہے۔ (ادارہ)

Showing 1-9 of 587 item(s)