Showing 1-9 of 18 item(s)
Khuf Tamasha ( Novel ) New

Khuf Tamasha ( Novel )

Rs. 3,000.00 ID-00603

* Khuf Tamasha ( Novel ) - (خوف تماشا (ناول * Author : Mirza Athar Baig - مرزا اطہر بیگ * Page,s : 1220 * It's not fake Book * Cover Typ : Heart * Paperback Dimensions: 5.5 x 8.25 * Original Book * Premium quality books * Best selling urdu book * Good Printing * Good Paper * Original Book * Reasonable Price * Famous Book

Safar-e-Narasai ( Novel ) New

Safar-e-Narasai ( Novel )

Rs. 2,000.00 ID-00596

سفرِ نارَسائی ( ناول ) Safar-e-Narasai ( Novel )

Waba - وبا New

Waba - وبا

Rs. 800.00 ID-00557

مرزا مدثر بیگ نے امریکہ سے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آپ کنسلٹنٹ کو سموٹالوجسٹ اور میڈیکل سپیشلسٹ ہیں۔ پاکستان سے سپیشلائزیشن اور دوسری امتحانی کامیابیوں میں کئی گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا تعلق ایک ادبی خاندان سے ہے، والد اور بہن بھی ادیب تھے۔ بڑے بھائی فلسفی ، ڈرامہ نگار ، ناول نگار سابقہ چیئر مین شعبہ فلسفہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور پرائیڈ آف پر فارمنس مرزا اطہر بیگ تو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ مرز امدثر بیگ میڈیکل کالج میں کالج میگزین کے طالب علم مدیر رہے اور اب بھی پچھلے ہیں سال سے ایک میڈیکل جرنل کے ایڈیٹر ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ”سورج ساحل اور سمندر ایک سفرنامے کی صورت میں تھی یہ سفر نامہ، ماہنامہ سرگزشت“ کراچی میں قسط وار چھپتا رہا جو مالدیپ پر لکھا گیا کسی بھی مصنف کا پہلا سفرنامہ تھا، اس کو بہت سراہا گیا۔ دوسری کتاب ان کی شاعری پر مشتمل تھی جسے ” تپتی ریت پر ننگے پاؤں“ کا نام دیا گیا۔ اسے بھی ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ ”سراب خواب ناول کے بعد یہ دوسرا ناول ”و ہا“ ہے جس میں کرونا و با کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ ایک مشکل موضوع تھا مگر اس کو مہارت سے ادبی رنگ میں لکھا گیا، یہ کسی بھی فزیشن کا لکھا کرونا و با پر پہلا ناول ہوگا۔

Sarab Khuwab Novel || سراب خواب ( ناول ) New

Sarab Khuwab Novel || سراب خواب ( ناول )

Rs. 1,200.00 ID-00550

Sarab Khuwab Novel || سراب خواب ( ناول ) Mirza Mudassar Baig || مرزا مدثر بیگ

Zehreallah Insan Novel New

Zehreallah Insan Novel

Rs. 2,000.00 ID-00517

Zehreallah Insan Novel Tabish Khan Zada

Jarmon Saza - جرم و سزا New

Jarmon Saza - جرم و سزا

Rs. 1,600.00 ID-00018

عظیم ناول ” جرم و سزا عالمی ادب کا کوہ نور ” دستوئیفسکی نے سائبیریا میں چار سال قید با مشقت میں گذارے۔ سائبیریا کی قید سے وہ اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ اپنی خدمات فوج کے لئے وقف کر دے۔ ۱۸۵۹ء میں وہ تمام الزامات سے بری کر دیا گیا اور اسے پیٹرز برگ جانے کی اجازت دے دی گئی۔ دستوئیفسکی نے قید میں برائی کی حقیقت کو پا لیا تھا۔ ۱۸۶۱ء میں انار کیزم کی تحریک بہت زوروں پر تھی۔ دستوئیفسکی بھی اس سے متاثر ہوا انارکسٹ ہر چیز کے منکر تھے وہ ہر قانون توڑ دینا چاہتے تھے۔ وہ آئے دن حکومت کے بڑے عہدے داروں پر حملے کرتے تھے۔ ۱۸۶۵ء میں ایک طالب علم نے ایک بوڑھی عورت کو جو سود پر قرضہ دیتی تھی مار ڈالا اور عدالت میں بیان دیا کہ اس نے بوڑھی عورت کو قتل کر کے کوئی جرم نہیں کیا۔ بلکہ ہزاروں غریبوں کا بھلا کیا جو اس سے قرض لیتے تھے۔ یہ واقعہ دستوئیفسکی کے ذہن میں بیٹھ گیا اور اسی واقعہ کی بنیاد پر CRIME AND PUNISHMENT اُس نے عظیم ادبی شاہکار جرم و سزا لکھا۔ جس نے عالمی سطح پر ادبی حلقوں میں دھوم مچا دی۔ میٹھے جرم وسزا کو ایک عظیم ناول سمجھتا تھا۔ ٹالسٹائی نے جرم وسزا کو عالمی ادب کا پیش قیمت ہیرا قرار دیا۔ جب کہ جرم و سزا محض بیش قیمت ہیرا نہیں بلکہ عالمی ادب کا کوہ نور ہے۔ ڈاکٹر پروین کلو

Showing 1-9 of 18 item(s)