راشد کا رجحان نہ انفرادیت کی طرف ہے نہ اجتماعیت کی طرف۔ انفرادیت کی خوفناک تنہائیاں شاعر کو پسند نہیں۔ اور اجتماعیت جو فرد ہی کو بلندی کے انتہائی نقطے پر پہنچانے کی ایک کوشش کا نام ہے۔ اس میں اُسے بے شمار رخنے اور پیچ نظر آتے ہیں۔ پھر وہ کون سا نظام زندگی ہے جس میں یہ زہر موجود نہ ہو۔ زندگی کے اس دوراہے پر پہنچ کر اس نے بشریت کے دامن میں پناہ لی ہے۔ کرشن چندر راشد ہمارے جدید شاعروں میں یقینا ایک اہم نام ہیں۔ انھوں نے مغربی شاعری کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ مغرب کی کلاسیکی شاعری کے ساتھ ساتھ جدید شاعری سے بھی انھیں بہت لگاؤ تھا۔ شاعری کی جدید تحریکیں خواہ وہ لاطینی امریکہ میں ہوں یا افریقہ میں یا کہیں اور راشد کی نظر سے پوشیدہ نہیں تھیں ۔ انھوں نے ان تحریکوں سے استفادہ کیا لیکن ایشیا کے مسائل کو مد نظر رکھ کر موضوعات منتخب کیے۔ ان کے ہاں فکری شاعری زیادہ ہے جس میں ہم عصر سیاسی اور ادبی تحریکوں سے انپیریشن حاصل کی گئی ہے۔ مغربی ادب کو براہ راست پڑھ کر اور اس سے اثر پذیر ہو کر، اُردو شاعری میں متعدد تازہ تجربات کو پیش کرنے اور آنے والے شعرا کی ایک پوری نسل کو متاثر کرنے کی وجہ سے ان کی اہمیت مسلم ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا زبان کی بے مثال خوب صورتی ، پیکروں کی تجریدی پیچیدگی اور کلام کی روانی اپنا جواب آپ ہیں لیکن یہ تو ن م راشد کی عام خصوصیات ہیں۔ ان کی شاید ہی کوئی نظم زبان کی غیر معمولی چمک دمک اور لفظوں کے جرات مندانہ استعمال کی صفت سے خالی ہو۔ اُن کی یہ صفت عمر کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی گئی شمس الرحمن فاروقی غالب اور اقبال کے بعد میرے لیے راشد وہ تیسرے شاعر ہیں جس کی نظموں میں معنی کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے ۔ یہ شاعری اپنی تفہیم اور تعبیر کے کسی بھی مرحلے میں ہمارے لیے محض ماضی کی چیز نہیں بنے پاتی ، اپنے تمام دروازے کبھی بند نہیں کرتی۔ کسی نہ کسی تجربے، طرز احساس اور تصور کے واسطے سے یہ شاعری ہمیں از سر نو متوجہ کر لیتی ہے اور ہماری تخلیقی احتیاج کی آسودگی کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر شمیم حنفی
فلسفے کا نیا آہنگ Philosophy in a New Key سوسین لینگر کے نظریات بنیادی طور پر آرٹ ، زبان اور ذہن کے مابین تعلق اور انسانی فہم اور تجربے کی تشکیل میں علامتوں کے کردار کی وضاحت کرتے ہیں ۔ اس نے بیان کیا کہ کس طرح آرٹ ، جو علامتی اظہار کی ایک شکل ہے، ہمیں انسانی جذبات کو سمجھنے اور پیش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ آرٹ کا یہ کردار با لخصوص وہاں زیادہ واضح ہے جہاں جذبات کو بسہولت الفاظ کی شکل نہیں دی جاسکتی۔ اس نے بجائے خود احساس کی ماہیت پر بھی کام کیا اور بتایا کہ یہ بلند تر وقوفی عمل کی بنیاد اور شعور کا بنیادی پہلو ہے۔ امریکی فلسفی، مصنفہ اور معلمہ سوسین لینگر (1985 - 1895ء) نے ذہن پر آرٹ کے اثرات پر نظریات پیش کیے۔ یہ ان اولین امریکی خواتین میں سے ہیں جنھوں نے فلسفہ کی درس و تدریس کو بطور پیشہ اپنایا۔ ان کی ایک نہایت مقبول ہونے والی کتاب Philosophy in a New Key کے نام سے 1942 ء میں چھپی ۔ مختلف مضامین کے طالب علم اس کتاب سے دہائیوں استفادہ کرتے رہے۔ یه کتاب اس نے جرمن فلسفی کیسیر کے علامتیت کے فلسفے سے متاثر ہو کر لکھی۔ کیسیر رسمجھتا ہے کہ مذہب، سائنس، آرٹ اور اسطورہ انسانی فکر کی مختلف لیکن باہم مساوی شاخیں ہیں۔ اپنی مذکورہ بالا کتاب میں سوسین لینگر نے اورا کی علامتیت (Presentational Symbol ) کا ایک اپنا نظریہ پیش کیا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ انسان کو دوسرے جانوروں سے تمیز کرنے والی اہلیت علامت سازی اور سلامت کے ساتھ معنی کی وابستگی ہے۔ اس کتاب میں وہ آرٹ ، اس کی تخلیق کے پس منظر میں کارفرما عوامل اور انسانی شعور کی تشکیل میں اس کی وقعت پر کام کے لیے منضبط بنیاد فراہم کرنے میں کوشاں ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ زبان اظہار کی شکلوں میں سے صرف ایک ہے۔ اس کے نظریہ علامتیت میں انسانی تجربے کو معنی دینے میں آرٹ کا وہی مرتبہ ہے جو سائنس کو دیا گیا ہے۔ انسان پیش آمدہ تجربات اور مظاہر کو موسیقی ، آرٹ اور اسطورہ سازی جیسے ادرا کی علامتوں کی مدد سے معنی دیتا ہے۔ علامتوں کی طاقت اور انسانی تجربے اور احساس کے ساتھ ان کے تعلق پر لینگر کی گرفت کے باعث آج بھی جمالیات ، فلسفہ ذہن اور اشاروں اور علامتوں کے مطالعے (Semiotics) میں اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی اظہاری وقوف ( Cognitive) میں دلچسپی رکھنے والے احساس اور علامتی منطق کے درمیان تعلق پر اس کی تحریروں کو وقعت دیتے ہیں۔ محمد ارشد رازی
ذکر غالب مرزا غالب کے مستند حالات زندگی ) ارباب نظر کے ایک چھوٹے سے حلقے میں تو غالب اپنی زندگی ہی میں مقبول ہو چکے تھے لیکن جسے قبول عام کہتے ہیں وہ اُن کو ایک مدت تک حاصل نہیں ہوا۔ اُن کے کلام کی صحیح قدر لوگوں کو اُس وقت معلوم ہوئی ۔ جب مولانا حالی نے مقدمہ شعر و شاعری لکھ کر اپنے ہم عصروں کے مذاق شعر کو نتها را، اور یادگار غالب لکھ کر یہ ثابت کیا کہ اس نھرے ہوئے مذاق کی تسکین غالب کے کلام سے به خوبی ہو سکتی ہے۔ انگریزی دانوں میں غالب کا چرچا زیادہ تر عبد الرحمن بجنوری کے مقدمے اور دیوان غالب کے برلن ایڈیشن اور چغتائی ایڈیشن کی بدولت ہوا۔ پچھلی چوتھائی صدی میں علامہ محمد اقبال کی شہرت اور مقبولیت نے پچھلے شاعروں کے نقش کو اگر بنایا نہیں تو مدھم ضرور کر دیا۔ لیکن غالب کا نقش اگر تو اتنا گہرا اور روشن تھا کہ اس کی آب و تاب میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔ غالب کی عظمت کی ایک بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ جتنی اچھی اور اونچے درجے کی کتابیں ان کی زندگی اور شاعری پر لکھی گئیں اتنی کسی اور شاعر کو نصیب نہیں ہوئیں ۔ حالی کی یادگار غالب سے جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ برابر جاری رہا۔ اس کی وہ کڑیاں جو خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ غلام رسول مہر کی غالب شیخ محمد اکرام کی معرکے کی تصنیف " غالب نامہ اور مالک رام کی ذکر غالب ہے جس کا نیا ایڈیشن آپ کے سامنے ہے۔ یہ اس تمام تحقیقات کا نچوڑ ہے جو اب تک غالب کی سیرت کے متعلق ہو چکی ہے اس کے علاوہ اس میں مالک رام صاحب نے نئے ماخذوں کو کھنگال کر نئی معلومات فراہم کی ہے جو کہیں اور نہیں ملتی۔ پہلا ایڈیشن بھی اس لحاظ سے کچھ کم امتیاز نہیں رکھتا تھا اور موجودہ ایڈیشن میں تو ایسے مفید اضافے ہوئے ہیں کہ اہل ذوق کی نظر میں کتاب کی قدروقیمت اور بڑھ گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس پر آشوب زمانے میں بھی جو علم و ادب کی کساد بازاری کا دور ہے ذکر غالب ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔ سید عابد حسین
زیر نظر خود نوشت سے چند اقتباسات مجموعی طور پر میری ذاتی زندگی خوشگوار رہی ہے ۔۔۔ ضرورت سے زیادہ مادی وسائل کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ کسی زمانے میں شہرت کا شوق تھا لیکن پھر اس سے بھی بے نیاز ہو گیا ۔۔۔ جتنی شہرت مل گئی وہی کافی ہے۔۔۔ خواہش ضرور ہے کہ بنیادی ضروریات پوری ہوتی رہیں اور الحمد اللہ پوری ہو رہی ہیں ۔ کروفر کی زندگی پسند نہیں ہے بعض لحاظ سے میں بڑا خوش نصیب ہوں ۔ میں نے ایسا پیشہ اختیار کیا جو میرے مزاج کے عین مطابق ہے۔ مزید خوش نصیبی یہ کہ صحت عموماً اچھی رہی ہے۔۔۔ ترجیہات و تعصبات سے گریز کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔۔۔ میرے مزاج میں بہت سی خامیاں بھی ہیں مثلاً میں بہت غصیلا ہوں اور جب غصے میں آجاتا ہوں تو میری عقل رخصت ہو جاتی ہے اور جذبات غالب آجاتے ہیں۔۔۔ مجھے سرسری ملنے والے یاد نہیں رہتے اس وجہ سے بعض لوگ مجھے مغرور سمجھتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ بعض اوقات کسی کی آدھی بات سُن کر دامن صبر چھوٹ جاتا ہے اور میں جواب دینا شروع کر دیتا ہوں، لوگوں کے بارے میں رائے قائم کرنے میں مثالیت پسندی کی طرف رجحان ہے اور انھی کے بارے میں اچھی رائے رکھتا ہوں جو خامیوں سے بہت حد تک مبرا ہوں ۔ اپنی ذاتی زندگی سے ہٹ کر دیکھتا ہوں تو بہت نا آسودگی ہوتی ہے کیونکہ دنیا مرے افکار کی دنیا نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ طویل عمر کے باعث میں نے متعدد کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں۔۔۔ میری یہ تحریریں کسی افادیت کی حامل ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ وقت بہت جلدی کر دے گا تاہم میں نغلط نہیں کہوں گا کہ جب میرے کسی کام کی پزیرائی ہوتی ہے تو خوشی ہوتی ہے۔۔۔
آزاد ہند فوج: ایک ان کہی داستان یہ ان دنوں کی بات ہے جب پورا ہندوستان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ ہر طرف سے مایوسی کا عالم تھا، لوگ سوال کرتے تھے: کیا ؟ تھے: کیا کبھی آزادی کا سورج طلوع ہوگا ؟ تب کہیں دور ایک لاکار گونجی سبھاش چندر بوس کی للکار : ” تم مجھے خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا ! یہ آواز سیدھی نوجوانوں کے دل میں اُتری ، اور ایک نئی کہانی نے جنم لیا۔ بوس نے صرف تقریر نہیں کی ، وہ میدان میں اُترے۔ مولوی کا بھیس بدلا ، لمبی داڑھی رکھی اور گونگے بن گئے تا کہ کوئی پہچان نہ سکے۔ پشاور سے افغانستان ، وہاں سے روس اور پھر جرمنی جا پہنچے۔ ہر راستے پر موت کھڑی تھی، مگر بوس کے ارادے فولاد کے تھے ۔ جرمنی میں آزاد ہند مرکز قائم کیا ، پھر جاپان پہنچے اور آزاد ہند فوج کی بنیاد رکھی۔ یہ فوج ان سپاہیوں کی تھی جو کبھی انگریزوں کے لیے لڑتے تھے، اب اپنی سرزمین کے لیے لڑنے کو تیار تھے۔ برما کے جنگلوں میں ان کی وردیاں دھول میں آئیں ، بندوقوں کی نالیں چمکیں ، اور ہر سینے میں صرف ایک نعرہ دھڑکنے لگا : ” چلو دلی !“‘ اُن کا خواب تھا کہ وہ لال قلعے پر ہندستان کی آزادی کا پرچم لہرائیں گے، مگر قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ برما کی لڑائیاں سخت تھیں، راشن کم ہتھیار محدود۔ جاپان کی شکست کے بعد یہ خواب بکھر نے لگا۔ جب آزاد ہند فوج کے سپاہی گرفتار ہوئے اور اُن پر غداری کے مقدمے چلے تو ہندوستان جاگ اٹھا۔ لوگ چیخ اٹھے : ” یہ غدار نہیں ، ہمارے ہیرو ہیں ؟ انگریز حکومت دہل گئی۔ فوج ، بحریہ، سب میں بغاوت کی آگ لگ گئی اور آخر کار وہ دن آیا جب انگریز خود اس سرزمین کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ یوں آزاد ہند فوج کی یہ کہانی ختم ہو کر بھی زندہ رہی ایک ایسی داستان جو ہر دل میں بغاوت، قربانی اور آزادی کی جوت جلا گئی۔
سبھاش چندر بوس : آہنی عزم کا علمبردار سبھاش چندر بوس ایک ہر دل عزیز اور جری عوامی رہنما تھے۔ وہ دو مرتبہ کانگریس کے صدر منتخب ہوئے۔ گاندھی جی، پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل اعتدال پسند سیاست کے قائل تھے، جبکہ سبھاش چندر بوس خالص قوم پرست جذبات کے حامل تھے۔ جب کانگریس کے اعتدال پسند رہنما بغاوت کے شعلوں کو دبانے اور قابو میں رکھنے کے منصوبے بنا رہے تھے، سبھاش چندر بوس پوری جرات کے ساتھ جنگ آزادی کا بگل بجا رہے تھے۔ ادھر گاندھی جی امن ، عدم تشدد اور صبر و قناعت کے گیت الاپ رہے تھے، اُدھر سبھاش جی کا یقین تھا کہ اب قربانی کا وقت آگیا ہے، اپنا سب کچھ نچھاور کرو اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالو۔ وہ اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر غیر ملکی حکمرانوں سے آزادی چھینے کے لیے میدان عمل میں اُتر آئے ۔ انہوں نے لاکار کر کہا: آؤ! میں تمہیں آزادی کا راستہ دکھاتا ہوں ۔ میرے پیچھے چلو !“ لیکن جب گاندھی جی نے یہ آواز سنی تو انہیں ہر طرف تشدد کی بو محسوس ہونے لگی۔ انہیں یوں لگا جیسے اُن کے اپنے سانسوں سے بھی تشدد کی صدا آ رہی ہو۔ وہ خوف زدہ ہو گئے ۔ انہیں اپنی تمام عمر کی محنت اور اصولوں کی بنیاد پر قائم عمارت زمیں بوس ہوتی دکھائی دینے لگی۔ وہ متزلزل ہوئے اور اپنی زندگی کی سب سے بڑی سیاسی غلطی کر بیٹھے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کے نازک ترین مرحلے پر انہوں نے نہ صرف قومی قوت کا غلط اندازہ لگایا بلکہ اپنے سیاسی وقار کو بچانے کی کوشش میں برصغیر کے بہترین مفاد کو پس پشت ڈال دیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان پیشکش شدت اختیار کر گئی ۔ بکری شیر پر غالب آگئی اور دنیا حیرت زدہ رہ گئی۔ سبھاش چندر بوس اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ برصغیر کی آزادی کے لیے ہندوستان کی سرزمین کو ترک کرنا ناگزیر ہے۔ کئی دنوں کے غور وفکر کے بعد وہ بھیس بدلے کابل کے راستے برلن (جرمنی) پہنچے، اور پھر وہاں سے جاپان کے شہر ٹوکیو روانہ ہو گئے ۔ ٹوکیو سے انہوں نے آزاد ہند فوج کی تشکیل کے لیے سنگا پور کا رخ کیا۔
خواجہ معین الدین کے بارے ایک لمحہ توقف کیے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ڈراما نگار بھی تھے ہدایت کار بھی اداکار بھی۔ انہوں نے ہر شاخ میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور سب نے ان کی اہلیتوں کا اعتراف کیا۔ خواجہ صاحب کی تھیٹر سے لگن دیکھ کر یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ وہ پاکستان میں بابائ تھیٹر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب بھی اُردو تھیٹر کی تاریخ لکھی جائے گی ، ان کی کوششوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہوگا۔ میرزا ادیب خواجہ معین ، مطمئن آبادی، منصفانہ معاشرہ اور مستحکم ملک کے خواہش مند تھے۔ ڈراما مرزا غالب بندر روڈ پر اُن کی اس خواہش کا اظہار ہے۔ بندر روڈ اس ڈراما میں جائے واردات بھی ہے۔ اور صراط مستقیم کا استعارہ بھی۔ خواجہ معین الدین نے پاکستان کی پہلی دہائی کو غور سے دیکھا اور جو صورت حال نظر آئی اُسے مرزا غالب کا نام لے کر صاف صاف بیان کر دیا۔ مرزا غالب کے ڈراما میں وہ کسی جگہ قیام نہیں کرتے اور منظر تیزی سے بدلتا رہتا ہے۔ قبرستان ، عالم بالا، بھارت، پاکستان، عالم خواب مختار مسعود خواجہ معین الدین مکالموں میں طنز بیج سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن کلانگس پر تاثر پھیل سا جاتا ہے۔ ان کا رشتہ فنی طور پر قدیم ڈرامے کے ساتھ قائم تھا، لیکن انھوں نے موضوعات دور حاضر کے مسائل منتخب کیے، اور ڈرامے سے زندگی کی زہرنا کی کو سامنے لے آئے۔ ڈاکٹر انور سدید خواجہ معین الدین کی زبان بظاہر سادہ اور عام فہم ہے، مگر اس کے پیچھے ایک گہری معنویت، معاشرتی شعور اور فکری بلندی پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ روز مرہ کے لہجے میں بات کرتے ہیں، مگر ان کے مکالمے زندگی کے بڑے سوالات سے ٹکراتے ہیں۔ یہی انداز ہمیں دنیا کے عظیم ڈرامہ نگاروں کی تخلیقات میں بھی نظر آتا ہے، جہاں سادگی کے پردے میں ایک وسیع تر سماجی و انسانی کا ئنات پوشیدہ ہوتی ہے۔ عقیل اختر
جگن ناتھ آزاد کو اردو اور علامہ محمد اقبال سے ایک خاص نسبت حاصل تھی ۔ اسی لیے ہم ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر تھا۔ یہاں کی تمام بڑی بڑی ادبی تقریبات میں ان کو اعزاز کے ساتھ مدعو کیا جاتا تھا۔ اقبال کی شاعری اور فلسفہ و فکر کو مغرب میں متعارف کروانے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ زیر نظر سفر نامہ " کولمبس کے دیس میں دراصل امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے اُس سفر کی روداد ہے جو سفر انھوں نے اقبال اور اُردو کے حوالے سے منعقدہ مختلف تقاریب میں شرکت کے لیے کیا۔ یہ سفرنامہ ستر کی دہائی کے آخری برس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے سے بھی پہلے ان ممالک میں ایسی بستیاں موجود تھیں جہاں ہندوستانی اور پاکستانی کلچر کے اہم نشانات کو محفوظ کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود نئی نسل کے اپنے کلچر سے کٹ جانے کا خدشہ بہر حال موجود تھا۔ اس سفرنامہ کے مطالعہ سے یہ جان کر حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات پیدا ہوتے ہیں کہ نصف صدی قبل بھی امریکی یونیورسٹیوں میں اُردو، ہندی، پنجابی، پالی، بنگالی، سندھی، آسامی، بلوچی، گجراتی اور تلیگو جیسی زبانیں پڑھائی جاتی تھیں۔ ڈاکٹر محمد وصی اللہ خاں جیسے بہت سے ماہرین تعلیم امریکہ میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اُس وقت کے امریکہ کا سب سے بڑا سیرز ٹاور پاکستان نژاد انجینئر فضل الرحمان کی تخلیقی امریکہ کی ترقی میں اس کے تعلیمی نظام اور فعال کتب خانوں کے ساتھ ساتھ باصلاحیت تارکین وطن کا بھی اہم کردار ہے۔ وہاں کی ایک اہم درسگاہ ایسٹ ویسٹ یونیورسٹی کے چانسلر صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سفر نامہ نگار واقعہ معراج کے تناظر میں شائع ہونے والی ایک کتاب کا ذکر کرتے ہوئے اس امر پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں کہ مغرب میں مسلمانوں کی دلآزاری کا جو سلسلہ صدیوں پہلے شروع ہوا تھا وہ اب بھی اسی طرح جاری ہے اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں مزید شدت آگئی ہے۔ سفرنامہ کے مطالعہ سے ہمیں سمندر پار بسنے والے شاعروں اور ادیبوں کی اُردو ادب کے لیے بیش قدر خدمات کے بارے میں بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ سفرنامہ نگار نے نصف صدی قبل کے امریکہ میں لائبریریوں میں جن سہولیات کی موجودگی کا ذکر کیا ہے ہم نصف صدی بعد بھی ان سے محروم ہیں یہ سفر نامہ دلکش اور رواں دواں نثر کا نمونہ ہے اور اُردو قارئین کے لیے لیے ایک تحفہ سے کم نہیں۔ ارشد نعیم مدیر سه ماهی صحیفہ لاہور
مطائبات - اُردو مزاح کا دور جدید فکاہیہ کالم نگاری کی جو روایت اودھ پنچ کے صفحات پر منشی سجاد حسین سے شروع ہو کر رتن ناتھ سرشار ، تر بھون ناتھ ہجر ، جوالا پرشاد برق، مرزا مچھو بیگ ستم ظریف ، نواب سید محمد آزاد او راکبرالہ آبادی جیسے اعلیٰ مزاح نگاروں تک وسعت اختیار کرتی ہے۔ اس روایت نے ادب اور صحافت کے مابین ایک ایسا رشتہ استوار کیا جو وقت کے ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ جب یہ روایت سفر کرتے کرتے جدید اردو صحافت کے عہد میں داخل ہوئی تو یہاں اسے ثروت مند کرنے والوں میں ہمیں عبد المجید سالک، چراغ حسن حسرت ، خواجہ حسن نظامی، شوکت تھانوی اور قاضی عبدالغفار جیسے صاحب اسلوب نثر نگار جلوہ آرا نظر آتے ہیں۔ ان صاحبان قلم نے ایک دن کی زندگی کی حامل تحریروں کو مستقل ادبی فن پارہ بنانے کا سلیقہ وضع کیا۔ چراغ حسن حسرت کی تخلیقی شخصیت اس کارواں میں اپنی الگ شناخت اور اسلوب کے ساتھ ممتاز نظر آتی ہے ۔ انھوں نے طنز کو آرٹ کا درجہ دیا اور اخباری کالم بھی ایک مستقل ادبی صنف کے طور پر شناخت قائم کرنے لگا۔ اسی بنا پر انھیں بجا طور پر فکاہیہ کالم نگاری کا امام کہا جاتا ہے۔ مطالبات چراغ حسن حسرت ( سند باد جہازی ) کے ان کالموں کا مجموعہ ہے۔ جو انھوں نے اپنے جاری کردہ ہفت روزہ ” شیرازہ میں تحریر کیے۔ یہ ہفت روزہ ابن اسماعیل کے نزدیک اُردو مزاحیہ ادب کے جدید دور کا آغاز ہے ان کالموں میں آپ ایک ایسے مزاح نگار سے متعارف ہوتے ہیں جو مغربی طنز و مزاحکے حربوں اور آرٹ کو ایک مشرقی ادیب کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے جملہ محاسن کو اپنے اسلوب کا حصہ بناتا ہے۔ انھوں نے ہماری سیاسی ، سماجی اور معاشی زندگی پر ایک بالغ نظر طناز کی نگاہ ڈالی ہے، ان کے طنز میں دلیل اور منطق کا حسن ہے۔ پھکڑ پن کے ذریعے کسی کی بھی نہیں اڑائی گئی ، یہ کالم ایک خاص عہد کی سماجی زندگی سے متعلق ہونے کے باوجود کامیابی سے اگلے زمانوں تک سفر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ارشد نعیم مدیر سہ ماہی صحیفہ لاہور
Showing 10-18 of 578 item(s)