عظیم ناول ” جرم و سزا عالمی ادب کا کوہ نور ” دستوئیفسکی نے سائبیریا میں چار سال قید با مشقت میں گذارے۔ سائبیریا کی قید سے وہ اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ اپنی خدمات فوج کے لئے وقف کر دے۔ ۱۸۵۹ء میں وہ تمام الزامات سے بری کر دیا گیا اور اسے پیٹرز برگ جانے کی اجازت دے دی گئی۔ دستوئیفسکی نے قید میں برائی کی حقیقت کو پا لیا تھا۔ ۱۸۶۱ء میں انار کیزم کی تحریک بہت زوروں پر تھی۔ دستوئیفسکی بھی اس سے متاثر ہوا انارکسٹ ہر چیز کے منکر تھے وہ ہر قانون توڑ دینا چاہتے تھے۔ وہ آئے دن حکومت کے بڑے عہدے داروں پر حملے کرتے تھے۔ ۱۸۶۵ء میں ایک طالب علم نے ایک بوڑھی عورت کو جو سود پر قرضہ دیتی تھی مار ڈالا اور عدالت میں بیان دیا کہ اس نے بوڑھی عورت کو قتل کر کے کوئی جرم نہیں کیا۔ بلکہ ہزاروں غریبوں کا بھلا کیا جو اس سے قرض لیتے تھے۔ یہ واقعہ دستوئیفسکی کے ذہن میں بیٹھ گیا اور اسی واقعہ کی بنیاد پر CRIME AND PUNISHMENT اُس نے عظیم ادبی شاہکار جرم و سزا لکھا۔ جس نے عالمی سطح پر ادبی حلقوں میں دھوم مچا دی۔ میٹھے جرم وسزا کو ایک عظیم ناول سمجھتا تھا۔ ٹالسٹائی نے جرم وسزا کو عالمی ادب کا پیش قیمت ہیرا قرار دیا۔ جب کہ جرم و سزا محض بیش قیمت ہیرا نہیں بلکہ عالمی ادب کا کوہ نور ہے۔ ڈاکٹر پروین کلو
میکسم گورکی ماں دنیائے ادب کا شہرہ آفاق ناول ۱۹۰۵ء کے انقلاب کے دوران لکھا گیا جبکہ اس کی اشاعت ۱۹۰۷ ء میں ہوئی۔ اس ناول کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں ہوتا ہے۔ یہ کروڑوں کی تعداد میں چھپا اور لگ بھگ دنیا کی ۱۵۰ زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ تراجم کی بدولت اس ناول کو دنیا کے کروڑوں قارئین میسر آئے۔ اس ناول کا خالق میکسم گور کی تھا۔ ناول ”ماں کی کہانی ایک ایسی پر عزم عورت کی کہانی ہے جو مزدوروں کے حقوق کی ایک خفیہ تنظیم میں کام کرتی ہے۔ آوارہ گردوں کی طرح بھیس بدل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پارٹی لٹریچر پہنچاتی ہے اپنی اس جدو جہد میں وہ اپنی جان تک قربان کر دیتی ہے۔ کیونکہ وہ کوئی غیر معمولی عورت نہ تھی۔ مگر ایک اچھے مقصد کے حصول کی جد و جہد نے اسے معمولی عورت سے عظیم ماں بنا دیا۔ میکسم گورکی کا لازوال ناول ”ماں عالمی ادب کا جگمگاتا ہوا شہ پارہ ہے۔ اسے تخلیق ہوئے ایک سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور یہ ایک سو سال تاریخ انسانی کے سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور انقلاب پرور سال تھے۔ ان میں دو عالمگیر جنگیں ہوئیں۔ دنیا کے سیاسی نقشے میں ردو بدل ہوا۔ سائنسی ترقی نے دنیا کو گلوبل ویلج بنا دیا۔ افکار و خیالات میں نئی جہتیں پیدا ہوئیں معاشروں کے مزاج تبدیل ہو گئے اور یوں شعر و ادب کا مزاج بھی تیزی سے تبدیل ہو گیا۔ اسی زمانے میں عالمی ادب کا شاہ کار میکسم گور کی کا ناول ” ماں تخلیق ہوا۔ اسے تخلیق ہوئے عشرے گزرے لیکن میکسم گورکی نے اس زمانے کو اس کے کرداروں کو، اس دور کی بدلتی ہوئی سوچ اور منظر نامے کو اس طرحسپر د قلم کیا ہے کہ یہ زندہ جاوید شاہکار بن گیا۔ عالمی ادب کی تاریخ میں ایسی کوئی تصنیف نہیں ملتی جس کے قارئین کی تعداد اتنی کثیر ہو، اور جس نے کروڑوں لوگوں کی قسمت پر اتنا ز بر دست اور براہ راست اثر ڈالا ہو۔ ناول ”ماں کا ایک کردار آندر یکی نخود کہتا ہے ہم سب ایک ہی ماں کے بچے ہیں یہ عظیم خیال ہمیں بتاتا ہے کہ اس ناول کی ماں کتنی عظیم ہے اتنی عظیم کہ ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ ماں تجھے سلام ڈاکٹر پروین کلو
Showing 514-522 of 580 item(s)