Feroz Khan Noon

فیروز خان نون

Author
:  
فیروز خان نون    
Subject
:  
Aap Biti
ISBN
:  
978-627-7917-22-7
Year
:  
2026
Language
:  
Urdu
Pages
:  
343
Rs:1000/=

فیروز خان نون ... سوانح حیات ... ایک جائزہ فیروز خان نون 1893ء میں سرگودھا کی تحصیل بھلوال میں پیدا ہوئے ۔ 1905ء میں ایچی سن کالج لاہور میں داخلہ لیا اور اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ سے حاصل کی۔ 1921ء میں لاہور ہائی کورٹ میں پریکٹس شروع کی 41-1936ء تک برطانیہ میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور ہندوستان کے وزیر محنت رہے۔ 1945ء میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے نمائندے کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔ 1947ء میں پاکستان دستور ساز اسمبلی کے نمائندے اور 1950ء میں مشرقی پاکستان کے گورنر رہے ۔ 1953ء میں وزیر اعلیٰ پنجاب بنے۔ 1956ء میں وزیر خارجہ اور 58-1957ء میں وزیر اعظم پاکستان رہے۔ پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی خود نوشت سوانح حیات ہے اس میں قیام پاکستان کی جدو جہد کے دوران سیاسی ، سماجی اور ثقافتی حالات اور اپنی زندگی کے اہم واقعات اُنہوں نے بیان کیے ہیں۔ ملک فیروز خان نون نے سرکاری مناصب پر تعیناتی کے اعتبار سے بھر پور زندگی گزاری ہے۔ پاکستان کے لیے اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے خارجہ پالیسی کی بنیادیں استوار کرتے ہوئے چین، افغانستان اور ایران سے بالخصوص بہتر خارجہ تعلقات کی پالیسی وضع کی۔ ایک اور قابلِ ذکر اقدام اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت سے کشمیر کے لیے استصواب رائے منظور کروانا تھا۔ ان کا اہم ترین کارنامہ وزارت عظمی کے دوران گوادر کو پاکستان کی تحویل میں لینا تھا گوادر کو 1781ء میں قلات بلوچستان کے حکمران نے مسقط کے ایک مفرور شہزادے کو جاگیر کے طور پر دے دیا تھا جو اُس کی پناہ میں آیا تھا۔ مسقط میں سیاسی حالات تبدیل ہونے پر وہ شہزادہ مسقط کا سلطان بن گیا ۔ لیکن اُس نے گوادر کا قبضہ نہ چھوڑا۔ پاکستان بننے پر یہ مسئلہ دولت مشترکہ کے فورم پر اٹھایا گیا لیکن فیصلہ نہ ہو سکا ۔ فیروز خان نون نے اپنی وزارت عظمی کے دوران اس مسئلہ کو برطانیہ کے ذریعے پھر اُٹھایا اور برطانوی حکام میں اپنا اثر و رسوخ اور مدل موقف استعمال کرتے ہوئے زر نقد کے عوض سلطان مسقط سے چوبیس سو مربع میل کا علاقہ خاموشی سے واپس لے لیا جس پر ایران اور ہندوستان کی نظریں تھیں۔ طاہر منصور فاروقی

فیروز خان نون ... سوانح حیات ... ایک جائزہ فیروز خان نون 1893ء میں سرگودھا کی تحصیل بھلوال میں پیدا ہوئے ۔ 1905ء میں ایچی سن کالج لاہور میں داخلہ لیا اور اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ سے حاصل کی۔ 1921ء میں لاہور ہائی کورٹ میں پریکٹس شروع کی 41-1936ء تک برطانیہ میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور ہندوستان کے وزیر محنت رہے۔ 1945ء میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے نمائندے کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔ 1947ء میں پاکستان دستور ساز اسمبلی کے نمائندے اور 1950ء میں مشرقی پاکستان کے گورنر رہے ۔ 1953ء میں وزیر اعلیٰ پنجاب بنے۔ 1956ء میں وزیر خارجہ اور 58-1957ء میں وزیر اعظم پاکستان رہے۔ پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی خود نوشت سوانح حیات ہے اس میں قیام پاکستان کی جدو جہد کے دوران سیاسی ، سماجی اور ثقافتی حالات اور اپنی زندگی کے اہم واقعات اُنہوں نے بیان کیے ہیں۔ ملک فیروز خان نون نے سرکاری مناصب پر تعیناتی کے اعتبار سے بھر پور زندگی گزاری ہے۔ پاکستان کے لیے اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے خارجہ پالیسی کی بنیادیں استوار کرتے ہوئے چین، افغانستان اور ایران سے بالخصوص بہتر خارجہ تعلقات کی پالیسی وضع کی۔ ایک اور قابلِ ذکر اقدام اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت سے کشمیر کے لیے استصواب رائے منظور کروانا تھا۔ ان کا اہم ترین کارنامہ وزارت عظمی کے دوران گوادر کو پاکستان کی تحویل میں لینا تھا گوادر کو 1781ء میں قلات بلوچستان کے حکمران نے مسقط کے ایک مفرور شہزادے کو جاگیر کے طور پر دے دیا تھا جو اُس کی پناہ میں آیا تھا۔ مسقط میں سیاسی حالات تبدیل ہونے پر وہ شہزادہ مسقط کا سلطان بن گیا ۔ لیکن اُس نے گوادر کا قبضہ نہ چھوڑا۔ پاکستان بننے پر یہ مسئلہ دولت مشترکہ کے فورم پر اٹھایا گیا لیکن فیصلہ نہ ہو سکا ۔ فیروز خان نون نے اپنی وزارت عظمی کے دوران اس مسئلہ کو برطانیہ کے ذریعے پھر اُٹھایا اور برطانوی حکام میں اپنا اثر و رسوخ اور مدل موقف استعمال کرتے ہوئے زر نقد کے عوض سلطان مسقط سے چوبیس سو مربع میل کا علاقہ خاموشی سے واپس لے لیا جس پر ایران اور ہندوستان کی نظریں تھیں۔ طاہر منصور فاروقی

Reference demo_7

Reference demo_7


25 other products in the same category: