افادیت کی حامل ایک بہت مفید تاریخ ادب اُردو
اردو ادب کی تاریخوں کی اب قلت نہیں رہی۔ کئی کئی جلدوں پر مشتمل مفصل ادبی تاریخوں سے لے کر انتہائی مختصر تصانیف تک سامنے آچکی ہیں۔ اسی انداز کی ایک مختصر مگر جامع کتاب جدید تاریخ ادب اُردو ہے جو تین سو اٹھائیس صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مصنف عظیم الحق جنیدی ہیں اور شریک مصنف امیر حسن نورانی ہیں۔ یہ تاریخ ادب دیگر مختصر ادبی تاریخوں کے بالمقابل رکھ کر دیکھی جائے تو فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اکثر کتابوں کے مقابلے میں بہت زیادہ افادیت کی حامل ہے۔ بعض دیگر ادبی تاریخوں کی طرح اس میں شاعری اور نثر کے حصے الگ الگ ہیں۔ مصنفین بہت منکسر المزاج ہیں اس لیے انھوں نے اپنی تصنیف کی خوبیوں کو مبالغہ آمیز انداز میں سراہنے کی بجائے حقیقت نگاری کا انداز اختیار کیا ہے۔
اس کتاب کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر جگہ عیسوی سنین لکھے گئے ہیں اور اب چوں کہ ہجری سنین کا رواج نہیں رہا اس لیے قارئین کو دوسنین کے مخمصے میں نہیں ڈالا گیا۔ اردو ادب کے عام قارئین کے لیے اس کی افادیت مسلم ہے جب کہ طلبہ کے لیے اس سے بہتر کوئی مختصر ادبی تاریخ موجود نہیں ہے۔ اُردو ادب کے شائقین اس تصنیف کو بہت مفید پائیں گے۔ اس میں جس شاعر اور ادیب کو جتنی جگہ دی گئی ہے وہ جگہ اس کے استحقاق کے مطابق ہے۔ یقین ہے کہ اُردو ادب کے قارئین اس سے بے بہا استفادہ کریں گے اور ناشر کی اس
کاوش کو یقینا سراہا جائے گا۔
خواجہ محمد زکریا
Write Your Review
Jadid Tareekhy Adab Urdu
Our Feedback