تنقیدی نظریات
اُردو میں نظری تنقید کی بنیادی کتاب
سید احتشام حسین ترقی پسند تنقید کے بنیاد گزاروں میں سے ہیں۔
انھوں نے تنقید کے مختلف شعبوں میں قابل قدر تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔ طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اُردو میں نظری تنقید کے موضوع پر بہت کم کتب دستیاب ہیں۔ تنقیدی نظریات کی ترتیب کا کام انھوں نے بیسویں صدی کے وسط میں کیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ پون صدی گزرنے کے بعد بھی یہ کتاب اپنے موضوع کی مناسبت سے بنیادی اور مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ اسے فاضل مرتب نے تین حصوں (اول) مسائل ( دوم ) زاویے (سوم) تجزیے میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں اُصول تنقید، تنقید کی مبادیات ، نقاد کے منصب ، اور تنقید کے فن کی حدود کے بارے میں نیاز فتح پوری ، ڈاکٹر عبادت بریلوی، مجنوں گورکھ پوری اور کلیم الدین احمد کے مضامین شامل ہیں۔ نیز تنقید ، نظریہ اور عمل کے زیر عنوان سید احتشام حسین نے فن تنقید کے بارے میں خوبصورت طرز استدلال سے اپنے موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ زاویے“ کے زیر عنوان دوسرے حصے میں تخلیق و تنقید کے باہمی رشتے، تحقیق و تنقید کے درمیان تعلق کے ساتھ ساتھ سائنٹیفک تنقید، نفسیاتی تنقید اور مارکسی تنقید کو مجنوں گورکھ پوری، ڈاکٹر سید عبد اللہ ، اسلوب احمد انصاری، سید شبیہ الحسن اور ڈاکٹر عبدالعلیم نے کامیابی سے اپنا موضوع بنایا ہے۔ تجزیئے" کے عنوان سے موجود حصہ سوم میں آل احمد سرور، ڈاکٹر اختر اور بینوی ، ریاض احمد اور سید ممتاز حسین نے ادب اور تنقید کی بنیادی اقدار پر خوبصورت مقالات پیش کیے ہیں۔
اُردو ادب کے اساتذہ اور طالب علموں کے لیے تنقید کے بنیادی تصورات اور نظریات کو سمجھنے کے لیے یہ مضامین کامل رہنمائی کے اہل ہیں۔ ان مقالات کی زبان رواں ، سلیس اور آسان فہم ہے اور فاضل نقادوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے انھیں تحریر کیا ہے۔
(ادارہ)
Write Your Review
Tanqeedi Nazaryat ( Usul Or Fan Ke Matalq Mazamin Ka Mujamua )
Our Feedback