Kaghaz Ki Naao

کاغذ کی ناؤ

Author
:  
اختر حسین رائے پوری    
Subject
:  
Afsanay
ISBN
:  
978-627-7919-24-1
Year
:  
2026
Language
:  
Urdu
Pages
:  
256
Rs:800/=

سجاد حیدر یلدرم اور منشی پریم چند اور اُن کے فوری بعد کی نسل نے اُردو افسانے کو عالمی ادب سے آنکھ ملانے کے قابل کر دیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی اُردو افسانے کا معیار ادب اُردو کے لیے سرمایہ افتخار بن چکا تھا۔ ان افسانہ نگاروں کی وجہ سے اُردو افسانہ اتنی تیزی سے تخلیق ہوا کہ بعض افسانہ نگاروں کی کہانیوں کے انتخابات بھی سوسو افسانوں پر مشتمل قرار پائے ۔ اس دور میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے دو اُردو افسانوی مجموعے ” محبت اور نفرت اور زندگی کا میلہ اور آگ اور آنسو کے نام سے ایک ہندی مجموعے کی اشاعت کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ اپنے کم افسانوں کے باوجود اختر حسین رائے پوری کا شمار اُردو کے اُن افسانہ نگاروں میں بہت نمایاں ہے، جنھوں نے افسانے کو غزل کا شعر بنا دیا۔ اختر کے افسانے حشو و زوائد سے یوں مبرا ہیں کہ کسی ایک واقعے کسی ایک پیرا گراف حتی کہ کسی ایک جملے کو بھی آپ افسانے سے نہیں نکال سکتے ۔ صفِ اوّل کے بعض افسانہ نگاروں کے ہاں تو اپنے نقطۂ نظر کو منوانے کی حد تک ضد نظر آتی ہے، یہاں تک کہ واقعات کی کثرت مرکزی نقطے کو دھندلا دیتی ہے۔ اُس عہد میں اختر کے علاوہ افسانے کی یہ شان صرف منٹو کے ہاں دکھائی دیتی ہے، لیکن منٹو آخری جملے کا افسانہ نگار ہے، جب کہ اختر حسین رائے پوری کے افسانے کی منتہا اُن کے ہر افسانے میں مختلف مقام پر محسوس ہوتی ہے۔ اُردو کے علاوہ سنسکرت، ہندی، بنگالی، گجراتی، فارسی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں سے شناسائی نے ان کے اسلوب پر نہایت خوش گوار اثر ڈالا ہے۔ منظر نگاری، جزئیات نگاری، کردار نگاری، جذبات نگاری میں انھیں ایسی دسترس حاصل ہے کہ قاری کسی مقام پر افسانے کے سحر سے نہیں نکل سکتا۔ یقینا آج اُردو افسانہ بہت کی منزلیں طے کر چکا ہے، لیکن پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اختر کے افسانے ایک روشن ستارے کی مانند ماضی کے دھند لکے کو منور کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ معروف شاعر اور ادیب جناب ارشد نعیم نے مذکورہ بالا دونوں افسانوی مجموعوں کے علاوہ اختر حسین رائے پوری کے غیر مرتب افسانوں کو بھی مجموعے میں شامل کر کے ان کا افسانوی کلیات مرتب کر دیا ہے۔ ان کی یہ کاوش اُردو افسانے کی تاریخ میں تادیر یاد رکھی جائے گی۔ ڈاکٹر خالد ندیم

سجاد حیدر یلدرم اور منشی پریم چند اور اُن کے فوری بعد کی نسل نے اُردو افسانے کو عالمی ادب سے آنکھ ملانے کے قابل کر دیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی اُردو افسانے کا معیار ادب اُردو کے لیے سرمایہ افتخار بن چکا تھا۔ ان افسانہ نگاروں کی وجہ سے اُردو افسانہ اتنی تیزی سے تخلیق ہوا کہ بعض افسانہ نگاروں کی کہانیوں کے انتخابات بھی سوسو افسانوں پر مشتمل قرار پائے ۔ اس دور میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے دو اُردو افسانوی مجموعے ” محبت اور نفرت اور زندگی کا میلہ اور آگ اور آنسو کے نام سے ایک ہندی مجموعے کی اشاعت کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ اپنے کم افسانوں کے باوجود اختر حسین رائے پوری کا شمار اُردو کے اُن افسانہ نگاروں میں بہت نمایاں ہے، جنھوں نے افسانے کو غزل کا شعر بنا دیا۔ اختر کے افسانے حشو و زوائد سے یوں مبرا ہیں کہ کسی ایک واقعے کسی ایک پیرا گراف حتی کہ کسی ایک جملے کو بھی آپ افسانے سے نہیں نکال سکتے ۔ صفِ اوّل کے بعض افسانہ نگاروں کے ہاں تو اپنے نقطۂ نظر کو منوانے کی حد تک ضد نظر آتی ہے، یہاں تک کہ واقعات کی کثرت مرکزی نقطے کو دھندلا دیتی ہے۔ اُس عہد میں اختر کے علاوہ افسانے کی یہ شان صرف منٹو کے ہاں دکھائی دیتی ہے، لیکن منٹو آخری جملے کا افسانہ نگار ہے، جب کہ اختر حسین رائے پوری کے افسانے کی منتہا اُن کے ہر افسانے میں مختلف مقام پر محسوس ہوتی ہے۔ اُردو کے علاوہ سنسکرت، ہندی، بنگالی، گجراتی، فارسی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں سے شناسائی نے ان کے اسلوب پر نہایت خوش گوار اثر ڈالا ہے۔ منظر نگاری، جزئیات نگاری، کردار نگاری، جذبات نگاری میں انھیں ایسی دسترس حاصل ہے کہ قاری کسی مقام پر افسانے کے سحر سے نہیں نکل سکتا۔ یقینا آج اُردو افسانہ بہت کی منزلیں طے کر چکا ہے، لیکن پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اختر کے افسانے ایک روشن ستارے کی مانند ماضی کے دھند لکے کو منور کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ معروف شاعر اور ادیب جناب ارشد نعیم نے مذکورہ بالا دونوں افسانوی مجموعوں کے علاوہ اختر حسین رائے پوری کے غیر مرتب افسانوں کو بھی مجموعے میں شامل کر کے ان کا افسانوی کلیات مرتب کر دیا ہے۔ ان کی یہ کاوش اُردو افسانے کی تاریخ میں تادیر یاد رکھی جائے گی۔ ڈاکٹر خالد ندیم

Reference demo_7

Reference demo_7


54 other products in the same category: